126

لوہے کےکارخانےمیں جاکرکام دیکھیں،کیاان مزدورں کی تنخواہیں ٹریفک وارڈنزکےبرابرکردیں،چیف جسٹس

اسلام آباد،(بےلاگ نیوز)سپریم کورٹ نے پنجاب ٹریفک وارڈنزکواضافی الاونس دیئے جانے کے فیصلے کوکالعدم قراردے دیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوہے کے کارخانے میں جائیں انکا کام دیکھیں کتنا مشکل ہے،کیا ان مزدورں کی تنخواہیں بھی ٹریفک وارڈنزکے برابرکردیں

چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پنجاب سروس ٹربیونل کی جانب سے پنجاب ٹریفک وارڈنز کو اضافی الاونس سے متعلق کیس کی سماعت کی،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے موقف اپنایا کہ ٹریفک وارڈنزکی تقرری کے وقت پنجاب ہائی وے پیٹرولنگ کے مساوی تنخواہیں اور مراعات دی گئیں ٹریفک وارڈنزنے اس تقرری کوکسی فورم پرچیلنج نہیں کیا ، ایک بنیادی اضافی تنخواہ سے قومی خزانے پراضافی بوجھ پڑرہا ہے،اس لیے 2008 میں اضافی الاونس کومنجمد کردیا تھا۔

وکیل ٹریفک ورڈنز نے موقف اپنایا کہ وارڈنز کی ڈیوٹی سخت ہے ، سردی گرمی میں کام کرتے ہیں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ لوہے کے کارخانے میں جائیں انکا کام دیکھیں کتنا مشکل ہے،کیا ہم ان مزدورں کی تنخواہیں بھی ٹریفک وارڈنزکے برابرکردیں۔

 جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ تقرری کے وقت طے کیا گیا کہ ٹریفک وارڈنز کوپنجاب ہائی وے پیٹرولنگ پولیس سے زیادہ تنخواہ نہیں دی جاسکتی،، چیف جسٹس بولے یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ نوٹیفیکیشن کا ایک حصہ قبول کرلیں اور دوسرے کو نا کریں۔۔

 عدالت نے پنجاب سروس ٹربیونل کی جانب سے پنجاب ٹریفک وارڈنزکواضافی الاونس دیے جانے کے فیصلے کوکالعدم قراردیتے ہوئے پنجاب حکومت کی درخواست منظورکرلی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں