51

نبی پاکؐ کافرمان ہے100مجرم چھوٹ جائیں لیکن ایک بےگناہ کوسزانہ ہو،چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ

اسلام آباد،(بےلاگ نیوز)چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ مجرم کوجیل میں ٹارچر کرنے کےلئے نہیں ڈالا جاتا، نبی پاکؐ کا فرمان ہے 100 مجرم چھوٹ جائیں لیکن ایک بے گناہ کو سزا نہ ہو۔

تفصیلات کیمطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں جیل میں قیدیوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری عدالت میں پیش ہو ئیں،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ شیریں مزاری صاحبہ خود کیوں آئیں ہم نے تو نہیں بلایا تھا،جس پر شیریں مزاری نے کہا کہ میں خودرپورٹ عدالت میں جمع کرناچاہتی ہوں۔

شیریں مزاری نے کہا کہ عدالت نے ذمہ داری عائد کی تھی، عدالت کے احترام کے لیے خود پیش ہوئی ہوں، جیلوں میں زیر ٹرائل قیدیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، زیر ٹرائل قیدیوں کے مسئلے کا حل ضروری ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ نیلسن منڈیلا نے کہا گورننس اور حالات کا جائزہ لیناہے تو جیلوں کی حالت دیکھیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نےکہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے سزا یافتہ بھی اگر بیمار ہو جائے اس کورہا کرے، سزا یافتہ مجرم کو بھی جینے کا حق ہے،مجرم کوجیل میں ٹارچر کرنے کےلئے نہیں ڈالا جاتا، نبی پاکؐ کا فرمان ہے 100 مجرم چھوٹ جائیں لیکن ایک بے گناہ کو سزا نہ ہو۔

 چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے شیریں مزاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عدالت آپ کے کام کو سراہتی ہے،بعدازاں کیس کی سماعت15 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں