287

کم عمری میں شادی پر تنقید ،نوجوان جوڑے کا ناقدین کو جواب

عمان میں مقیم پاکستانی نوجوان اسد کی پاکستانی لڑکی نمرہ سے شادی کی تصاویر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچادی۔

ویب ڈیسک)خلیجی ملک عمان کے دارالحکومت مسقط میں مقیم اے لیول کا طالب علم اسد بہن کی شادی میں شرکت کیلئے چھٹیوں پر پاکستان آیا تو ایک کشمیری لڑکی نمرہ پر دل ہار بیٹھا۔

خوش قسمتی سے نہ ہی کوئی ظالم سماج بیچ میں آیا اور نہ ہی کوئی اور رکاوٹ سامنے آئی، اسد نے جھٹ والدین کو راضی کرکے رشتہ بھیج دیا اور لڑکی والوں  نے بھی ہاں کردی۔

نوجوان نوبیاہتا جوڑے کی تصاویر سوشل میڈیا پر آئیں تو  تبصروں اور تجزیوں کی بھرمار ہوگئی۔

کسی نے داد دی تو کسی نے طنز کے تیر بھی چلائے، کچھ حسد کے ماروں نے تو  لڑکے کے قد کاٹھ اور جسامت پر بھی چوٹ کی۔

بعض افراد کا کہنا ہے کہ  اتنی جلدی بھی کیا تھی، تعلیم تو مکمل کرلیتے تاہم خیرخواہوں نے اسے ایک اچھی روایت بھی قرار دیا۔

اکثر سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ نیک کام میں دیر کیسی؟ پڑھائی بھی ہوجائےگی اور روزگار بھی مل جائے گا۔

دولہے اسد کے والد کا کہنا ہے کہ تعلیم مکمل ہونے تک وہ ہی ان دونوں کا خرچ اٹھائیں گے۔ 

سوشل میڈیا پر اپنے پہلے انٹرویو میں اسد نے اپنے اوپر چٹکلے چھوڑنے والوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جو بولنا ہے بولو، مجھے جو چاہیے تھا مل گیا۔

نمرہ اور اسد کا کہنا ہے کہ وہ روایتی میاں بیوی کی طرح نہیں بلکہ دوستوں کی طرح رہتے ہیں،ساتھ دنیا گھومنا اور مل کر زندگی کو بھرپور جینا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں