176

دیکھتی ہی رہو گئی یا نمبر دو گئی

’دیکھتی ہی رہو گی یا نمبر بھی دو گی‘
ایک شہری نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ٹوئٹر پر ٹیگ کرتے ہوئے شکایت کی کہ ’یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری اور باعزت ٹرانسپورٹ کو مہیا کرے۔ یہ روٹ 110 پر یہ کیا گند ہے؟ برائے مہربانی ایکشن لیں۔‘

اسلام آباد کی ایک مسافر گاڑی میں لگی متنازع عبارت (سوشل میڈیا پر وائرال)

اسلام آباد (بے لاگ نیوز) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سوشل میڈیا کیسے مقامی مسائل فوری طور پر حل کرواسکتا ہے اس کی ایک تازہ مثال شہر میں چلنے والی ایک مسافر گاڑی میں خواتین کے لیے نازیبا عبارت لگانے پر ڈرائیور کو جرمانہ، روٹ پرمٹ کی منسوخی اور گاڑی قبضے میں لینا شامل ہے۔

وہ نازیبا عبارت جس کی وجہ سے اسلام آباد میں چلنے والی ایک لوکل گاڑی (پبلک ٹرانسپورٹ) کا ڈرائیور زیر عتاب آیا وہ تھی: ’دیکھتی ہی رہوں گی یا نمبر بھی دو گی۔‘ یہ عبارت سٹکر کی شکل میں خواتین کی اگلی نشستوں کے بالکل سامنے ونڈ سکرین پر سرخ رنگ سے لکھ کر لگائی گئی تھی۔

ایک شہری فیضان عباسی نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ٹوئٹر پر ٹیگ کرتے ہوئے شکایت کی کہ ’یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری اور باعزت ٹرانسپورٹ مہیا کرے۔ روٹ 110 پر یہ کیا گند ہے؟ برائے مہربانی ایکشن لیں۔
جس پر مقامی انتظامیہ نے فوری ایکشن لیا اور چند گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد مذکورہ گاڑی اور اس کے ڈرائیور کو پکڑ لیا گیا۔ یہ شکایت اتوار کو کی گئی تھی اور سوموار کی صبح تک کارروائی مکمل ہوچکی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں