191

مولانا فضل الرحمان دہشتگردقرار،بڑی کاروائی کا حکم

اسلام آباد،(بےلاگ نیوز)وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیئے۔ مولانا کہہ چکے ہیں جمہوری حکومت گرانے کا کہا گیا تھا، ان کے بیان کی تحقیقات ہونی چاہیئے۔

وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں سے ملاقات کی، صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جو کرپشن کرتے ہیں فوج کا ڈر انہیں ہوتا ہے، میں نہ کرپٹ ہوں اور نہ ہی پیسے بنا رہا ہوں۔ ملٹری ایجنسیز کو معلوم ہوتا ہے کون کیا کر رہا ہے،وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیئے۔ مولانا کہہ چکے ہیں جمہوری حکومت گرانے کا کہا گیا تھا، ان کے اپنے بیان کے تناظر میں ان پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیئے۔ مولانا کے بیان کی تحقیقات ہونی چاہیئے، معلوم ہونا چاہیئے کہ انہیں کس نے یقین دہانی کروائی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آٹا بحران پر ابتدائی رپورٹ میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام نہیں، ملک میں ہر جگہ کارٹیل ہے جو قیمتوں کو مرضی سے کنٹرول کرتا ہے، مسابقتی کمیشن اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا،بجلی کی قیمتیں مزید نہیں بڑھا سکتے، بجلی کی قیمتوں سے متعلق آئی ایم ایف سے معاملات طے پا جائیں گے،میں پرچی والا پارٹی سربراہ نہیں، 22 سال جدوجہد کر کے اس مقام پر پہنچا ہوں۔ مجھ سے زیادہ لڑنا کوئی نہیں جانتا۔

وزیراعظم عمران خان نےکہا کہ حکومت گرانے کی باتیں اس لیے ہیں کہ اپوزیشن کی سیاسی دکان بند ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کے درمیان افراتفری موجود ہے۔ اپوزیشن حکومت جانے کی باتیں صرف اپنی پارٹی اکھٹا کرنے کے لیے کرتی ہے، یہ سیاسی مافیا ہے ان کو مہنگائی کی نہیں اپنی ذات کی فکر ہے،میری ذات پر تنقید کریں تو فرق نہیں پڑتا، جس طرز پر ہماری حکومت کے خلاف خبریں دی گئیں ملک کو نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن اصلاحات کے لیے قوانین لا رہے ہیں، الیکٹرانک ووٹنگ اور بائیو میٹرک سسٹم کو لازمی قرار دیں گے۔ سینیٹ الیکشن خفیہ رائے شماری سے نہیں ہوں گے، شو آف ہینڈز سے سینیٹ الیکشن کا قانون لائیں گے،اتحادیوں کے تحفظ دور کردیے ہیں۔ تحریک انصاف میں اختلافات پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسی جماعت نہیں جس میں اختلاف نہ ہو، اپوزیشن جماعتوں کے اندر بھی اختلافات ہیں۔

وزیراعظم  نے کہا کہ حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں، خفیہ اداروں کو نواز شریف اور زرداری کی کرپشن کا علم ہے، دونوں اسی لیے فوج کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں