190

۔ پاکستان اور بھارت میں جنگ چھڑ سکتی ہے، امریکی سفیر کیمرون منٹر

سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر نے  پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی پر جنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔اسلام آباد میں منعقدہ عالمی اسٹریٹجک خطرات اور ردعمل پر بین الاقوامی کانفرنس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیمرون منٹر نے کہا کہ  دنیا کو اس وقت 3 اہم مسائل کا سامنا ہے جو ماحولیات، ٹیکنالوجی اور ملکوں کے اندرونی مسائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں ٹیکسٹائل مصنوعات کا منافع کم ہوتا جا رہا ہے، اس لیے پاکستان کو اپنی معیشت کا دارومدار ٹیکسٹائل کی بجائے ٹیکنالوجی پر کرنا ہوگا جب کہ پاکستانی نوجوانوں کو سافٹ ویئر اور آئی ٹی سے متعلق مہارت حاصل کرنا ہوگی۔سابق امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ   بطور امریکی سفیر پاکستان کے مسائل سے اپنے ملک کو آگاہ کیا، میرے نزدیک پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی پر جنگ ہوسکتی ہے۔

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں سے پانی کی آمد پر ہوتا ہے۔ایسے میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے کافی اہم ہے۔اس معاہدے کی ضرورت 1948 میں اُس وقت پیش آئی جب بھارت نے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کردیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔

اس معاہدے کے تحت انڈس بیسن سے ہر سال آنے والے مجموعی طور پر 168 ملین ایکڑ فٹ پانی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا گیا جس میں تین مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب سے آنے والے 80 فیصد پانی پر پاکستان کاحق تسلیم کیا گیا جو 133 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہےجبکہ بھارت کو مشرقی دریاؤں جیسے راوی، بیاس اور ستلج کا کنٹرول دے دیا گیا۔

چوں کہ مغربی دریاؤں میں سے کئی کا منبع بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں تھا، اس لیے بھارت کو 3 اعشاریہ 6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور محدود حد تک آب پاشی اور بجلی کی پیداوار کی اجازت بھی دی گئی لیکن بھارت نے معاہدے کی اس شق کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا اور مقبوضہ علاقوں سے گزرنے والے دریاؤں میں یعنی سندھ، چناب اور جہلم پر 15 سے زائد ڈیم بنا چکا ہے جبکہ مزید 45 سے 61 ڈیمز بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔اس کے علاوہ ان دریاؤں پر آب پاشی کے 30 سے زائد منصوبے بھی مکمل کیے گئے ہیں۔حال ہی میں آنے والی خبروں کے مطابق اب بھارت 15 ارب ڈالر کی لاگت سے مزید منصوبوں پر کام کا آغاز کرہا ہے جس میں 1856 میگاواٹ کا سوا لکوٹ پاور پروجیکٹ بھی شامل ہے۔ کشن گنگا، رتلے، میار، لوئر کلنائی، پاکال دل ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور وولر بیراج نیوی گیشن پروجیکٹ پر بھی کام کا آغاز کیا جارہا ہے جن کا مقصد بظاہر تو بجلی بنانا ہے لیکن اس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا بتایا جاتا ہے۔

دوسری جانب بھارت پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے کئی بار سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی بھی دے چکا ہے جبکہ دریاؤں کا رخ موڑنے کا اعلان بھی کرتا نظر آتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں