Azadi Maech 78

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب، جے یو آئی ف کا جلسہ اسلام آباد کے پشاور موڑ پر ہوگا

حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان طویل بات چیت کے بعد اتفاق طے پاگیا، تفصیلات کا اعلان وزیر دفاع پرویز خٹک پریس کانفرنس میں کریں گے

اسلام آباد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیابی، جے یو آئی ف کا جلسہ اسلام آباد کے پشاور موڑ پر ہوگا، حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان طویل بات چیت کے بعد اتفاق طے پاگیا، تفصیلات کا اعلان وزیر دفاع پرویز خٹک پریس کانفرنس میں کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آزادی مارچ کے جلسے کے مقام کے انتخاب سے متعلق مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔حکومتی اور اپوزیشن کی کمیٹی نے اتفاق کیا ہے کہ جے یو آئی ف کا جلسہ ریڈ زون کی جانب نہیں جائے گا۔ اپوزیشن کا جلسہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے پشاور موڑ پر کیا جائے گا۔ اس حوالے سے تمام تفصیلات کا باقاعدہ اعلان حکومتی کمیٹی کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک ایک پریس کانفرنس کے دوران کریں گے۔

دوسری جانب جے یو آئی ف کے رہنما اور اپوزیشن رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی نے اعلان کیا ہے کہ اپوزیشن اسلام آباد میں دھرنا دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔اکرم خان درانی نے واضح کر دیا ہے کہ اپوزیشن کا آزادی مارچ بھی طویل نہیں ہوگا۔ جبکہ مارچ وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون کی جانب بھی نہیں جائے گا۔ ممکنہ طور پر آزادی مارچ اسلام آباد میں ایک جلسے کے بعد ختم ہو جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ جمعیت علماء اسلام (ف)اوور دوسری جماعتیں آزادی مارچ کو ریڈزون میں لے جانے سے دستبردار ہوگئیں۔ واضح رہے حکومتی اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں۔گزشتہ روز وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی کی رہائش گاہ پر مذاکرات کیے۔اس موقع پر قائم مقام صدر صادق سنجرانی،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،وفاقی وزیر مزہبی امور پیر نور الحق قادری،وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چئیرمین اسد عمر ،رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی اور رہبرِ کمیٹی کے اراکین ان کے ہمراہ تھے۔پرویز خٹک نے کہاکہ مذاکرات کے دوران دونوں طرف سے تجاویز اور مطالبات پیش کئے گئے مگر ہم کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکے تاہم مذاکرات کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔اس موقع پر اکرم خان درانی نے کہا کہ ملاقات کے لیے ابھی کوئی ٹائم فریم طے نہیں ہوا کہ آئندہ مزاکرات کب اور کہاں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بات چیت کے دروازے بند نہیں کئے،ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔قبل ازیں حکومتی وفد اور رہبر کمیٹی کے درمیان مذکرات کی دو نشتیں ہوئیں،پہلی نشست کے دوران رہبر کمیٹی کی طرف سے حکومتی کمیٹی کو مطالبات پیش کئے گئے جن کو کمیٹی کے سربراہ وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک پارٹی قیادت کے پاس لیکر گئے اور واپسی پر مذاکرات کی دوسری نشتن شروع ہوئی جس میں حکومتی وفد کے ساتھ رہبر کمیٹی کینکنوینر اکرم خان درانی،نپاکستان پیپلز پارٹی کے ممبران رہبر کمیٹی فرحت اللہ بابر ،نیئر حسین بخاری،قومی وطن پارٹی کے ہاشم بابر، نیشنل پارٹی کے طاہر بزنجو، اے این پی کے میاں افتخار،مسلم لیگ (ن )کے احسن اقبال،سردار ایاز صادق،جمیعت علماء پاکستان کے شاہ اویس نورانی،مرکزی جمیعت اہلحدیث کے حافظ عبد الکریم،اور پختونخوا ملی پارٹی کے عبدالصمد اچکزئی نے اپنے مطالبات،مختلف تجاویز پر بحث کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں