227

جانیے، کورونا وائرس بچوں کو کس حد تک متاثر کرسکتا ہے

کورونا وائرس کے باعث سب سے پہلے دنیا بھر میں اسکولوں کو بند کردیا گیا تاکہ اس کے حملے سے بچے محفوظ رہیں لیکن اس کے باوجود بھی بچوں کے متاثر ہونے کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں۔

(ویب ڈیسک)اب تک کے مطالعے اور تجزیے کے بعد طبی ماہرین کا کہنا ہے ہزاروں افراد کی جان لینے والا کورونا وائرس بڑوں کے مقابلے میں بچوں پر کم متاثر ہوتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ بچوں کے لیے خطرناک نہیں ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں ماہر وبا و انفیکشن اینڈریو پولارڈ کا کہنا ہے کہ ابتداء میں یہ سمجھا جارہا تھا کہ یہ وائرس بچوں کو متاثر نہیں کرتا لیکن ایسا نہیں ہے، اس کی علامات بڑوں کی طرح بچوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔چینی کے ایک مرکز کے اعداد و شمار کے مطابق 20 فروری تک کووڈ-19 کے 72 ہزار 314 کیسز سامنے آئے جن میں سے 19 سال سے کم عمر والوں میں صرف 2 فیصد اس کی شکایت پائی گئی۔امریکی مطالعے کے مطابق 508 کیسز میں سے کسی بچے کی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی، اس اعتبار سے وائرس سے بچوں کی شرح اموات ایک فیصد سے بھی کم بتائی جاتی ہے۔

کورونا وائرس نوجوانوں کے مقابلے میں بچوں پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے؟ اگرچہ کورونا وائرس بچوں کے لیے جان لیوا ثابت نہیں لیکن پھر بھی چین سمیت لندن اور بیلجیئم سے ایسی ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جن کی عمر 12،13 اور 14 تھی۔ایسے کم عمر جو کورونا میں مبتلا تھے، انہیں سانس لینے میں دشواری یعنی (اے آر ڈی ایس) کی شکایت پائی گئیں، یہ وہ کیسز ہیں جو بالغ ہیں جب کہ 9 سال سے کم عمر سے والے بچوں میں یہ تناسب ایک فیصد پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انفیکشن کے باوجود ان میں یہ علامات پائی نہیں جاتی۔ساؤتھمپٹن یونیورسٹی کے ایک اعزازی مشیر برائے اطفال گراہم رابرٹس نے اس حوالے سے وضاحت پیش کی کہ  کووڈ-19 میں مبتلا  بچوں میں نزلہ زکام، کھانسی کی شکایت پائی جاتی ہیں جیسے ٹھنڈ لگنے کی صورت میں کیفیت ہوتی ہے لیکن یہ وائرس ان کے پھیپھڑوں تک نہیں جاتا اور نہ ہی انہیں

سانس لینے میں تکلیف پیدا کرتا ہے ان کے لیے نمونیہ جان لیوا ثابت ہے لیکن کووڈ-19 نہیں۔ 

کورونا وائرس بچوں پر کم متاثر کیوں ہوتا ہے؟

ڈاکٹر  اینڈریو پولارڈ کا کہنا ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس وقت سے ایک حد تک کی عمر تک اسے کسی بھی قسم کے انفیکشن سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں جس کے باعث ان کی قوت مدافعت انفیکشن سے لڑنے کی طاقت رکھتی ہے جب کہ جو بچے 12 سال کی عمر سے بڑھ جاتے ہیں انہیں کسی ٹیکوں کے مرحلے سے گزرنا نہیں پڑتا تاہم وہ اس کی حفاظت خوراک سے ہی کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں