164

ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ

اسلام آباد: (بے لاگ نیوز) ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 3 ہزار 864 ہوگئی جبکہ مزید 3 ہلاکتوں کے بعد مرنے والوں کی تعداد 54 ہوگئی۔

کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق اب تک کورونا کے 39 ہزار 183 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔ پنجاب میں 1918، سندھ میں 932، خیبر پختونخوا میں 500، گلگت بلتستان میں 211، بلوچستان میں 202، اسلام آباد میں 83 جبکہ آزاد کشمیر میں 18 کورونا وائرس کے مریض سامنے آ چکے ہیں۔اب تک سندھ میں 17، پنجاب میں 15، خیبرپختونخوا میں 17، اسلام آباد اور بلوچستان میں ایک، ایک جبکہ گلگت بلتستان میں 3 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ کرونا وائرس میں مبتلا 17 افراد کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 429 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ اب تک کورونا وائرس کے 1918 کیسز سامنے آئے ہیں، اس وقت ہمارے پاس روزانہ 3100 ٹیسٹ کرنے کی استعداد ہے، جلد ہی 8 مزید لیبارٹریاں کام شروع کر دیں گی، نئی لیبارٹریوں کے فعال ہونے سے روزانہ 5 ہزار ٹیسٹ ہوسکیں گے۔عثمان بزدار کا کہنا تھا قرنطینہ سے ہی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے، ہم وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔سندھ میں کورونا کے وار روکنے کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، صوبے میں 51 نئے مریض سامنے آگئے جبکہ 2 افراد جاں بحق ہوگئے، جس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 932 ہوگئی، اس طرح جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 17 ہوگئی۔ترجمان صوبائی حکومت مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اب تک صوبے میں 9 ہزار 589 ٹیسٹ کیے گئے جس میں 932 مثبت آئے اور 253 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

وزیر اعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم تیاری کے حساب سے بہتر جا رہے ہیں، ایکسپو سنٹر کے قریب اگر ہوٹل ہے تو ایک ماہ کی بکنگ کر کے ڈاکٹرز کے لیے رہائش کا بندوبست کیا جائے اور ہر ڈاکٹر کو الگ روم فراہم کیا جائے۔ اگر جلد لاک ڈاؤن کر دیا جاتا تو ملک بھر میں وائرس کے پھیلاؤ اور قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا۔محکمہ صحت سندھ نے کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تدفین کے لیے ہدایات جاری کر دیں۔ جس میں کہا گیا ہے کہ متوفی کو ہاتھ نہیں لگایا جائے اور جو آخری رسومات ادا کریں وہ فاصلہ برقرار رکھیں۔ ہسپتال میں میت کے کپڑئے تلف کر دیے جائیں جبکہ جگہ کو جراثیم سے پاک کیا جائے۔ کراچی میں کورونا سے سکن سپیشلسٹ ڈاکٹر عبدالقادر سومرو انتقال کر گئے۔

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبہ بھر میں کورونا کے 85 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبہ میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 500 ہوگئی ہے، 10 کیسز ریکارڈ میں شامل نہیں ہوئے تھے ان کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔اب تک سب سے زیادہ پشاور میں 105 جبکہ مردان میں 100 کیسز رپورٹ ہوئے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں سامنے آنے والے نئے کیسز میں بنوں 2، بونیر اور ایبٹ آباد سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا، پشاور سے 23 نئے کیسز، سوات 7، مردان 3، کرک ایک، چارسدہ 4، ڈیرہ اسماعیل خان سے ایک کیس، مہمند 1، کوہاٹ 15، خیبر 1، دیر لوئر 6، دیر اپر 14 اور شمالی وزیرستان سے 3 کیس رپورٹ ہوئے۔صوبے میں مشتبہ مریضوں کی تعداد 1264 ہوگئی ہے، اب تک 1252 افراد کا کورونا ٹیسٹ کیا جاچکا ہے جبکہ 69 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔

بلوچستان میں بھی کورونا کے مزید 10 کیسز سامنے آگئے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ صوبے میں متاثرین کی تعداد 202 ہوگئی۔ لیاقت شاہوانی کے مطابق آج 126 ٹیسٹ کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، 120 منفی نتائج سامنے آئے، جس کے بعد تمام متاثرین کو ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔بلوچستان حکومت نے لاک ڈاؤن میں مزید 2 ہفتوں کی توسیع کر دی۔ کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل میں ایک قیدی میں وائرس کی تشخیص ہوگئی۔

گلگت بلتستان (جی بی ) میں کورونا کے وار جاری ہیں، جی بی میں 5 نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 211 تک پہنچ گئی۔

اسلام آباد میں بھی 4 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرین کی تعداد 82 تک پہنچ گئی۔ بپمز ہسپتال میں گزشتہ 20 دن سے زیر علاج کورونا کی 40 سالہ خاتون مریضہ شبنم جاں بحق ہوگئی۔ یہ اسلام آباد میں ہونیوالی پہلی موت ہے۔ مذکورہ خاتون برطانوی ایئر لائن میں ملازم تھی۔ خاتون کے خاوند میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی تاہم وہ صحت یاب ہو کر گھر چلے گئے۔

آزاد کشمیر میں بھی مزید 3 مریض سامنے آگیا جس سے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 18 ہوگئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں