129

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستانی سائنسدانوں کی اہم کامیابی

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستانی سائنسدانوں کی اہم کامیابی سامنے آئی ہے اور ڈاؤ یونیورسٹی کے ماہرین نے کورونا کے علاج کےلیے اینٹی باڈیز (انٹرا وینیس امیونو گلوبیولن) تیار کرنے کا دعوی کیا ہے۔

ترجمان ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائسنز کے مطابق یونیورسٹی کورونا وائرس کے علاج کے لیے گلوبیولن تیار کرکے دنیا پر سبقت لے گئی ہے، ڈاؤ یونیورسٹی کے ماہرین نے کورونا کے صحتیاب مریضوں کے خون سے حاصل شدہ اینٹی باڈیز سے انٹرا وینیس امیونو گلوبیولن( آئی وی آئی جی) تیار کرلی ہے جس کے ذریعے کورونا متاثرین کا علاج کیا جاسکے گا۔

ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹر شوکت علی نے کہا کہ اس طریقہ علاج میں کورونا سے صحت یاب مریض کے خون میں نمو پانے والے اینٹی باڈیز کو علیحدہ کرنے کے بعد شفاف کرکے امیونو گلوبیولن تیار کی جاتی ہے ۔

یہ طریقہ علاج پلازما تھراپی سے بالکل ہی مختلف ہے، ماہرین نے لیبارٹری ٹیسٹنگ اور حیوانوں پر اس کا سیفٹی ٹرائل کرکے حاصل ہونے والی ہائپر امیونوگلوبیولن کو کامیابی کے ساتھ تجرباتی بنیادوں پر انجیکشن کی شیشیوں (وائلز) میں محفوظ کرلی ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی کی ٹیم ابتدائی طور پرمارچ 2020 میں خون کے نمونے جمع کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی بعد ازاں اس کے پلازمہ سے اینٹی باڈیزکو کیمیائی طور پر الگ تھلگ کرنے، صاف شفاف کرنے اور بعد میں الٹرا فلٹر تکنیک کے ذریعے ان اینٹی باڈیز کو مرتکز کرنے میں کامیاب ہوگئ ہے۔

ماہرین اب وفاقی حکومت کے ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور بائیو ایتھکس کمیٹی سے بھی اس کی منظوری لیں گے جس کے بعد انسانی پر کلینیکل ٹرائل کا آغاز کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں