492

سال2019،بھارتی فوج نے کتنے بےگناہ کشمیریوں کو شہید کیا؟؟؟

(ویب ڈیسک)بھارتی فوجیوں نے 2019ء میں 9 لڑکوں سمیت 210 کشمیریوں کو شہید کیا،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے رواں سال 2019 کے دوران 3 خواتین اور 9 لڑکوں سمیت 210 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کردیا ۔

 کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سےجاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ان شہادتوں کی وجہ سے 14 خواتین بیوہ اور 29 بچے یتیم ہوئے جبکہ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے اس دوران 64 خواتین کی بے حرمتیاں بھی کیں۔ 

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے پرامن مظاہرین کے خلاف گولیوں،پیلٹ گنز،پاواشیلوں اور آنسو گیس سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال اور گھروں پر چھاپوں اور کریک ڈاﺅنز کی کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 417 شہریوں کو زخمی کیا۔

رپورٹ کیمطابق پیلٹ گنز کے باعث کم سے کم 827 افراد زخمی ہو ئے جن میں سے 162 افراد ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے ۔ بھارتی فورسز نے اس عرصے کے دوران 249 مکانوں کو تباہ کیا،اس سال حریت کارکنوں ، طلباء، نوجوانوں اور خواتین سمیت 12 ہزار 892 شہریوں کو گرفتار کیا گیا،جن میں سے بیشتر اب بھی مختلف جیلوں میں نظربند ہیں۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ حریت رہنماﺅں محمد یاسین ملک،شبیراحمد شاہ،نعیم احمدخان،آسیہ اندرابی،فہمیدہ صوفی،ناہیدہ نسرین،الطاف احمدشاہ،ایازمحمداکبر ،پیرسیف اللہ،راجہ معراج الدین کلوال،شاہدالاسلام،فاروق احمدڈار،محمداسلم وانی ،سیدشاہدیوسف،سید شکیل یوسف اورغلام محمد بٹ اورکشمیری تاجر ظہور وٹالی کو جھوٹے مقدمات میں نئی دلی کی تہاڑ جیل میں مسلسل نظربند رکھا گیا۔ 

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ حریت رہنماﺅں اور کارکنوں بشمول مسرت عالم بٹ ، بارایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم، جنرل سیکرٹری بار محمد اشرف بٹ، ایڈوکیٹ نذیر احمد رونگا، ایڈوکیٹ ہلال اکبر لون،جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض، ایڈوکیٹ زاہد علی، جمعیت اہلحدیث کے رہنما مولانا مشتاق ویری، مولانا سرجان برکاتی، محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، گلزار احمد گلزار، مولوی بشیر احمد، شوکت احمد بخشی، بشیر کشمیری، نور محمد کلوال، مشتاق احمد ڈار، بشیر بویا، محمد امین منگلو، عبدالرشید منگلو، عبدالغنی بٹ، محمد رفیق گنائی، ظہور احمد بٹ، عبدالاحد پرہ،قاضی یاسر احمد ، تاجر رہنمامحمد یاسین خان، انسانی حقوق کارکن محمد احسن انتو اور صحافی آصف سلطان اور قاضی شبلی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں نظربند ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق شہداء میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان شامل ہیں ۔ شہدا میں پی ایچ ڈی سکالر وسیم احمد راتھر ، بیچلرز آف آرٹس سبزار احمد میر ، گریجویشن کے طالب علم ہلال احمد نائک، ادفرفیاض پرے، مدثر احمد خان ، عاقب احمد ڈار ، بشارت احمد میر، عادل بشیر وانی ، فیصل نذیر میر اور سیار احمد بٹ، آرگینک کیمسٹری میں ایم فل او ر ایک سکول کے پرنسپل رضوان اسد پنڈت، ایم ٹیک کے طالب علم راحیل رشید شیخ، فزیوتھیراپسٹ برہان الدین گنائی ،انجینئر ذاکر راشدبٹ المعروف ذاکر موسی،ایم اے بی ایڈ رفیق حسن میر ، 62 سالہ محمد ایوب خان ،65 سالہ غلام محمد اور جماعت اسلامی کے سینئر رکن 65 سالہ غلام محمد بٹ شامل ہیں ۔ ان میں سے 16 افراد کو دوران حراست یا جعلی مقابلوں میں شہید کیاگیا۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجیوں نے رواں ماہ دسمبر کے دوران 4 کشمیریوں کو شہید کیا جس کے نتیجے میں ایک خاتون بیوہ اور چار بچے یتیم ہوگئے۔ اس ماہ میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے پرامن مظاہرین کے خلاف گولیوں، پیلٹز اور آنسو گیس سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کم سے کم 24 افراد زخمی ہوگئے جبکہ حریت رہنماﺅں سمیت 57 افراد کو گرفتا کیا گیا۔ بھارتی فورسز نے اس عرصے کے دوران ایک رہائشی مکان کو بھی تباہ کردیا۔ 

رپورٹ میں کہاگیا کہ قابض حکام نے5 اگست کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں لوگوں کو 19 مرتبہ نماز جمعہ سمیت کوئی بھی نماز ادا کرنے اور محرم کے جلوسوں اور عید میلادالنبی ﷺ جیسی تقریبات منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ 

بھارتی حکام کی طرف سے نافذ کردہ فوجی محاصرے، سخت پابندیوں اور انٹرنیٹ کی معطلی سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے اور کشمیر کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔ انٹرنیٹ ، پری پیڈ موبائل اور ایس ایم ایس سروسز ابھی تک معطل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں