218

ریڈیوں پاکستان کو جام کرنے کے لئے بھارت کنٹرول لائن پر سینکڑوں ٹرانسمیٹر لگانے لگا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری تحریک آزادی کو دبانے کے لئے آل انڈیا ریڈیو کے انفراسٹراکچر کو تیزی سے بڑھاتا اور ترقی دیتا جارہا ہے۔ جس کا اندازہ ان اعدادوشمار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 2017-18 میں آل انڈیا ریڈیو نے ملک میں 52 نئے ٹرانس میٹرز لگائے۔ 2016-17 کے دوران 49 نئے اسٹیشنز قائم کئے۔2018-19میں مزید 11سٹیشنز کا اضافہ ہوا۔ جبکہ وہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ نئے اور جدید طاقتور ٹرانس میٹرز کی تنصیب بھی کر رہا ہے۔ 27 مارچ 2012 کوڈھاکہ کے بنگا بندھو انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں دنیا بھر سے ان شخصیات، ممالک اور اداروں کے نمائندوں کو اکٹھا کیا گیاتھا۔ جنہوں نے پاکستان کو دولخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تقریب میں آل انڈیا ریڈیو کو پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے شراکت دار ہونے کے اعتراف میں بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے سرکاری ایوارڈ دیا گیا۔ اس وقت پاکستان سے ملحقہ بھارت کی تین ریاستوں پنجاب، راجستھان، گجرات اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں آل انڈیا ریڈیو کے 83 اسٹیشنز اور 105 ٹرانس میٹرز کام کر رہے ہیں۔یہ تعداد آل انڈیا ریڈیو کے تمام اسٹیشنز کا 17.3 اور تمام ٹرانس میٹرز کا 15.4 فیصد ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سب سے توجہ طلب پہلو یہ ہے بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری تحریک آزادی کو دبانے ، آزاد جموں کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر پاکستانی علاقوں میں اپنا پروپیگنڈہ کرنے کے لئے مقبوضہ جموں کشمیر میں اپنے سرکاری ریڈیو کے نیٹ ورک میں اضافہ اور اسے مضبوط کرنے میں مصروف ہے۔ اس وقت مقبوضہ علاقے میں آل انڈیا ریڈیو کے 27 اسٹیشنز اور 57 ٹرانس میٹرز کام کر رہے ہیں۔ بھارت نے آل انڈیا ریڈیو کے لئے مقبوضہ جموں میں جدید DRM ٹیکنالوجی کا حامل 300 کلوواٹ کا میڈیم ویو ٹرانس میٹرنصب کیا ہے جبکہ سری نگر میں بھی 300 کلوواٹ کا میڈیم ویو کاٹرانس میٹرموجود ہے ۔ اسی طرح کارگل میں 200 کلوواٹ پاور کا میڈیم ویو ٹرانس میٹرکام کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں